تکلیف کہیں بھوک کہیں پیاس کہیں ہے

آدم ہے نہ حوا ہے زماں ہے نہ زمیں ہے

وہ کون ہے جو کن میں مگر پردہ نشیں ہے

مانا کہ نہیں ہوں ترے الطاف کے قابل

تو پھر بھی مرے حال سے غافل تو نہیں ہے

بندہ ہوں ترا غیب پہ ایمان ہے میرا

اوروں کو نہ ہو مجھ کو مگر تیرا یقیں ہے

شاہوں کے بھی تاجوں کو لگا دیتا ہے ٹھوکر

یہ بندۂ نا چیز جو اک خاک نشیں ہے

تھا ہند کی جانب مرے آقا کا اشارہ

خوشبوئے محبت تو ہمیشہ سے یہیں ہے

مانا کہ مرا لٹ گیا سرمایہ خوشی کا

اک درد کی دولت تو ابھی میرے قریں ہے

احباب کے برتاؤ کو میں کیسے بھلاؤں

بیکار تسلی گئی دل پھر بھی حزیں ہے

آسان نہیں راہ وفا دیکھ کے جامیؔ

تکلیف کہیں بھوک کہیں پیاس کہیں ہے

آدم ہے نہ حوا ہے زماں ہے نہ زمیں ہے 
وہ کون ہے جو کن میں مگر پردہ نشیں ہے 
مانا کہ نہیں ہوں ترے الطاف کے قابل 
تو پھر بھی مرے حال سے غافل تو نہیں ہے 
بندہ ہوں ترا غیب پہ ایمان ہے میرا 
اوروں کو نہ ہو مجھ کو مگر تیرا یقیں ہے 
شاہوں کے بھی تاجوں کو لگا دیتا ہے ٹھوکر 
یہ بندۂ نا چیز جو اک خاک نشیں ہے 
تھا ہند کی جانب مرے آقا کا اشارہ 
خوشبوئے محبت تو ہمیشہ سے یہیں ہے 
مانا کہ مرا لٹ گیا سرمایہ خوشی کا 
اک درد کی دولت تو ابھی میرے قریں ہے 
احباب کے برتاؤ کو میں کیسے بھلاؤں 
بیکار تسلی گئی دل پھر بھی حزیں ہے 
آسان نہیں راہ وفا دیکھ کے جامیؔ 
تکلیف کہیں بھوک کہیں پیاس کہیں ہے 

شاعر : رحمان جامی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *