یتیموں پر شفقت

چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کاوجود ، جوبچپنے میں اپنے باپ ( کی شفقت) سے محروم ہو چکے ہوں، ہر معاشرے میں اجتناب ناپذیر ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے بچوں کی کئی جہات سے حمایت ہونی چاہئیے۔
شفقت و مہر بانی کے لحاظ سے بہت سے محرومیاں ہوتی ہیں ۔ اگر ان کے وجود کا خلا اس لحاظ سے پر نہ ہوتوغیر صحیح، غیر سالم، اور بہت سے مواقع ہر سنگ دل ، مجرم اور خطر ناک بچے پروان چڑھتے ہیں ۔ علاوہ ازیں عواطف انسانی کا تقاضا یہ ہے کہ تمام لوگ ان کی طرف معاشرے کے تمام بچوں کی طرح توجہ اور حمایت کریں ۔ اور ان تمام باتوں سے قطع نظر لوگ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں ، جو ممکن ہے انہیں حالات سے دوچار ہو جائیں، مطمئن ہوں۔
بہت سے موارد میں یتیم بچے ایسے مال کے مالک ہوتے ہیں جسے وقت و امانت کے ساتھ ان کے مستقبل کے لئے محفوظ رکھناچاہئیے۔ اور بہت سے موارد میں ان کے ہاں مالی امکانات و وسائل کا فقدان ہوتا ہے ۔ لہٰذا انہیں اس لحاظ سے بھی موردتوجہ ہونا چاہئیے اور دوسرے لوگوں کو، مہر بان ماں باپ کی طرح ، ان کی روح سے یتیمی کے رنج اور تکلیف کو دور کرنا چاہئیے اور تنہائی کے کے گرد و غبار کو ان کے چہرے سے ہٹا دینا چاہئیے۔
اسی لئے قرآن مجید کی آیات، اور بہت سی اسلامی روایات میں اس مسئلہ پر تکیہ ہواہے جس میں اخلاقی پہلو بھی ہے اور معاشرتی اور انسانی پہلو بھی۔
یہ حدیث پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معروف ہے کہ آپ  نے فرمایا:
” ان الیتیم اذابکی اھتز لبکائہ عرش الرحمٰن
” جب یتیم روتا ہے کہ خدائے رحمن کا عرش لرز ا ُ ٹھتا ہے “۔
” خدا اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے : اے میرے فرشتو! اس یتیم کو جس کا باپ مٹی میں روپوش ہو گیا ہے ، کس نے رلادیا؟فرشتے کہتے ہیں: خد ایا تو زیادہ بہتر طور سے جانتا ہے تو خدا فرماتا ہے : اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ جو شخص اس کو رونے سے خاموش کرے گا اور اس کے دل کو خوش کرے گا ، میں قیامت کے دن اسے خوش کروں گا ۔ “۱
اس سے بالاتر ایک اور حدیث میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے:
” اذا بکی الیتیم وقعت دموعہ فی کف الرحمن“۔
” جب یتیم روتا ہے تو اس کے آنسوں خدائے رحمن کے ہاتھ میں پڑتے ہیں۔ ۲
ایک اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بھی آیاہے کہ آپ نے فرمایا:
” انا و کافل الیتیم کھاتین فی الجنة اذا اتقی اللہ عزوجل و اشار بالسبابة وا لوسطی
”میں اور یتیم کا سر پرست ان دو کی طرح جنت میں ہوں گے، بشر طیکہ وہ خوفِ خدا اور تقویٰ رکھتا ہو۔ پھر آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا،۳
اس موضوع کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے اپنے مشہور وصیت نامہ میں یتیموں کی طرف توجہ اور دھیان دینے کو نماز و قرآن کی طرف توجہ کرنے کے ساتھ قرار دیا ہے ،فرماتے ہیں:
” اللہ اللہ فی الایتام فلا تغلبوا افواھھم ولایضیعوا بحضرتکم“:
” خدا کو یاد رکھو، خدا کو یاد رکھو! یتیموں کو کبھی سیر اور کبھی بھوکا نہ رکھو اور تمہارے سامنے وہ ضائع نہ ہوں ۔ ۴
ایک حدیث میں پیغمبر کے ایک صحابی سے آیا ہے ، وہ کہتا ہے کہ ہم رسول خدا کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بچہ آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : ” میں ایک یتیم بچہ ہوں ، میری ایک یتیم بہن ہے، اور ایک بیوہ ماں ہے ، جو جو کچھ خدا نے آپ کو کھانے کے لئے دیا ہے اس میں سے ہمیں بھی کھلائیے تاکہ خدا کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے وہ آپ کو اس قدر دے کہ آپ راضی ہوجائیں “!
” بیٹا تم نے کتنی اچھی بات کہی ہے ! پھر آپ نے حضرت بلا لۻ کی طرف رخ کیا جاوٴ اور جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ لے آوٴ۔ بلال اکیس(۲۱) خرمے کے دانے لے آئے پیغمبر نے فرمایا : سات دانے تیرے اور سات دانے تیری بہن کے اور سات دانے تیری ماں کے لئے “۔
” معاذ بن جبلۻ“ اٹھے اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا : خد اتیری یتیمی کی تلافی کرے اور تجھے اپنے باپ کا اچھا جانشین بنائے۔ ( یتیم بچہ مہاجرین کی اولاد میں سے تھا )۔
پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے” معاذ “ کی طرف رخ کر کے فرمایا:
” تیرے اس کام کا سبب کیا تھا ؟ “ اس نے عرض کیا : محبت اور رحمت تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
” جو شخص تم میں سے کسی یتیم کی سر پرستی اپنے ذمہ لے ، اور اس کا حق اداکرے، اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے تو خدا ہر بال کی تعداد میں ا س کے لئے ایک نیکی تحریر کرے گا، اور ہر بال کی تعداد میں اس کی برائیوں کو محو کردے گا، اور ہر بال کے بدلے اس کو ایک درجہ عطا کرے گا۔ “ 5
البتہ ایسے وسیع معاشروں میں جیسا کہ آج کے معاشرے ہیں، مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ اس سلسلے میں انفرادی کا موں پر قناعت نہ کریں ، بلکہ انہیں چاہئیے کہ اپنی توانائیوں کو یکجا طور پر استعمال کرتے ہوئے یتیموں کو اقتصادی، علمی اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے کار آمدبنائیں اور انہیں اسلامی معاشرے کے لائق افراد بنائیں۔ اور یہ اہم کام عمومی تعاون کا محتاج ہے ۔

۱۔” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۰۶۔
۲۔” تفسیرفخر رازی“ جلد ۳۱ ص ۲۱۹۔
۳۔ ” نو ر الثقلین“ جلد ۵ ،ص ۵۹۷ حدیث ۲۳۔
۴۔ ” نہج البلاغہ خط نمر ۴۷ حصہٴ خطوط۔
5 ۔ ” مجمع البیان“ جلد۱۰ ، ص ۵۰۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *