شب قدر کی تعیین

شب قدر کی تعیین


 
امام رضاؑ کے حرم میں شب قدر کے مراسم

شب قدر کون سی رات ہے؟ اس حوالے سے اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔

اہل تشیع کا نظریہ

شیعہ مفسرین، سورہ قدر کی آیات کے ظاہر پر استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ شب قدر پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں نزول قرآن کے ساتھ مختص نہیں بلکہ شب قدر ہر سال تکرار ہوتی ہے۔ اور اس بات پر بعض معتبر اور متواتر احادیث میں بھی تاکید کی گئی ہے۔[30] لیکن اس کے باوجود یہ دقیق معلوم نہیں کہ شب قدر کونسی رات ہے اور قرآن اور احادیث میں بھی اس بات کے اوپر کوئی تصریح نہیں کی گئی ہے۔ البتہ بہت ساری احادیث میں یہ بات آئی ہے کہ شب قدر رمضان المبارک کے مہینے میں موجود ہے۔[31]

شیعہ احادیث میں رمضان المبارک کی تین راتوں 19ویں، 21ویں اور 23ویں کو شب بیداری کرنے پر زیادہ تاکید کی گئی ہے اور ان تین راتوں میں سے 23ویں رات کے بارے میں دوسری راتوں کی نسبت شب قدر ہونے کا احتمال زیادہ پایا جاتا ہے۔[32] بعض احادیث کے مطابق 19ویں رات مقدرات ثبت کی جاتی ہیں اور 21ویں رات ان مقدرات کو یقینی قرار دی جاتی ہے اور 23ویں رات ان مقدرات کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ [33] رمضان کی 27ویں رات اور پندرہ شعبان کی رات کے بارے میں بھی شب قدر ہونے کا احتمال دیا جاتا ہے۔[34]

اہل سنت کا نظریہ

اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ حدیث نبوی کے مطابق رمضان المبارک کی آخری دس راتوں میں سے ایک رات شب قدر ہے اور کتب صحاح[35] میں منقول احادیث کے مطابق، اغلب ستائیسویں رمضان کو شب قدر مانتے ہیں اور اس رات کو دعا اور شب بیداری میں بسر کرتے ہیں. بعض کا خیال ہے کہ جب تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم با قید حیات تھے، یہ رات ہر سال تکرار ہوا کرتی تھی لیکن آپ کی رحلت کے بعد کوئی شب قدر نہیں ہے۔[36] اہل سنت میں سے بعض کا کہنا ہے کہ شب قدر کوئی معین رات نہیں ہوا کرتی بلکہ ہر سال ایک نا مشخص رات شب قدر ہوا کرتی ہے ان کا کہنا ہے کہ بعثت کے سال شب قدر رمضان المبارک میں واقع ہوئی تھی لیکن اس کے بعد دوسرے سالوں میں ممکن ہے کسی دوسرے مہینے میں واقع ہو۔[37]

افق کا اختلاف اور شب قدر کا تعین

ہر سال صرف ایک رات، شب قدر ہے۔[38] لیکن مختلف ممالک کے افق میں اختلاف (جیسے ایران اور سعودی عرب کا افق) کی وجہ سے مختلف ممالک میں رمضان المبارک کے آغاز میں بھی اختلاف پیش آتا ہے جس کے نتیجے میں رمضان المبارک کی جس رات کو بھی شب قدر قرار دی جائے اس میں بھی اختلاف پیش آتا ہے۔[39] اس مسئلے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ مختلف ممالک کے افق میں اختلاف کا پایا جانا شب قدر کی تعدد کا باعث نہیں بنتا اور ہر مملک کے باشندوں کو چاہئیے کہ وہ شب قدر اور دوسرے ایام جیسے عید فطر یا عید قربان وغیرہ کو اپنے ملک کے افق کے مطابق منائیں۔[40] آیت اللہ مکارم شیرازی فرماتے ہیں کہ رات کی حقیقت، زمین کے نصف حصے کا دوسرے نصف حصے پر پڑھنے والا سایہ ہے اور یہ سایہ زمین کی حرکت کے ساتھ 24 گھنٹوں میں اپنا ایک چکر پورا کرتا ہے۔[41] بنابراین ممکن ہے شب قدر، زمین کا اپنے محور کے گرد ایک چکر پورا کرنے کا دورانیہ ہو یعنی وہ تاریکی ہے جو 24 گھنٹے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ پس شب قدر ایک ملک سے شروع ہوتی ہے اور 24 گھنٹوں کے دورانیے میں زمین کا ہر حصہ شب قدر کو درک کرتا ہے۔[42]

معصومین کی سیرت

ایک حدیث میں امام علیؑ سے منقول ہے کہ پیغمبر اکرمؐ، رمضان المبارک کے تیسرے عشرے میں اپنا بستر جمع کرتے تھے اور اعتکاف کیلئے مسجد تشریف لے جاتے تھے اور باوجود اس کے کہ اس وقت مسجد نبوی پر چھت بھی نہیں تھی بارش کے ایام میں بھی مسجد کو ترک نہیں کرتے تھے۔[43] اسی طرح منقول ہے کہ پیغمبر اکرمؐ شب قدر کی راتوں کو بیدار رہتے تھے اور جن لوگوں کو نیند آتی تھے ان کے چہرے پر پانی چھڑکتے تھے۔[44]

حضرت فاطمہ(س) کی یہ روش تھی کہ شب قدر کو صبح تک عبادت کی حالت میں گزارتی تھیں اور اپنے بچوں اور گھر والوں کو بھی بیدار رہنے اور عبادت انجام دینے کی تاکید فرماتی تھیں اور دن کے وقت سلانے اور کھانے میں کمی کے ذریعے رات کو نیند سے مقابلہ کرنے کی کوشش فرماتی تھیں۔[45] چودہ معصومینؑ شب قدر کی راتوں کو مسجد میں شب بیداری کو ترک نہیں فرماتے تھے؛[46] ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک دفعہ شب قدر کے ایام میں امام صادقؑ سخت مریض تھے اس کے باوجود آپ مسجد جا کر عبادت بجا لانے کی خواہش فرمایا۔[47]

شب قدر کے اعمال

شب قدر کے اعمال
مشترک اعمال
  • غسل انجام دینا
  • دو رکعت نماز، جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سات مرتبہسورہ توحید اور نماز کے بعد ستر مرتبہ اَسْتَغْفِرُ اللّه وَاَتُوبُ اِلَیه پڑھی جائے۔
  • شب بیداری اور عبادات کی حالت میں رات گزارنا
  • سو رکعت نماز (دو رکعتی)
  • دعائے “اَللهمَّ اِنّی اَمسیتُ لَکَ عَبداً…” پڑھنا
  • دعائے جوشن کبیر پڑھنا
  • زیارت امام حسین(ع)
  • قرآن سروں پر اٹھانا اور خدا کو چودہ معصومین کا واسطہ دینا
انیسویں رات
  • سو دفعہ “اَستَغفِرُالله رَبّی و اَتوبُ اِلیه” پڑھنا
  • سو دفعہ “اَلّلهمَّ العَن قَتَلَة اَمیرِالمُؤمِنینَ” کا ورد کرنا
  • دعائے: “اَللّهمَّ اْجْعَلْ فیما تَقْضی وَتُقَدِّرُ مِنَ الاَْمْرِ الْمَحْتُومِ…” پڑھنا
اکیسویں رات
  • رمضان المبارک کے آخری عشرے سے مربوط دعاؤوں کا پڑھنا
  • دعائے: “یا مُولِجَ اللَّیلِ فِی النَّهارِ…” پڑھنا
تئیسویں رات
  • رمضان المبارک کے آخری عشرے سے مربوط دعاؤوں کا پڑھنا
  • سورہ عنکبوت، سورہ روم اور سورہ دخان کی تلاوت کرنا
  • ہزار مرتبہ سورہ قدر پڑھنا
  • دعائے جوشن کبیر، دعائے مکارم الاخلاق اور دعائے افتتاح پڑھنا
  • رات کی ابتداء اور انتہا میں غسل انجام دینا
  • دعائے: اَللَّهمَّ امْدُدْ لِی فِی عُمُرِی وَ أَوْسِعْ لِی فِی رِزْقِی… پڑھنا
  • دعائے: اَللَّهمَّ اجْعَلْ فِیمَا تَقْضِی وَ فِیمَا تُقَدِّرُ مِنَ الْأَمْرِ الْمَحْتُومِ… پڑھنا
  • دعائے: یا بَاطِنا فِی ظُهورِه وَ یا ظَاهرا فِی بُطُونِه … پڑھنا
  • امام زمانہ(عج) کی سلامتی کیلئے دعائے فَرَج پڑھنا

رسومات

اہل تشیع ہر سال رمضان کی 19ویں، 21ویں اور 23ویں رات کو مساجد، امام بارگاہوں، ائمہ معصومین یا امام زادوں کے روضات مقدسات میں شب قدر کے اعمال بجا لاتے ہیں اور ان راتوں کو صبح تک شب بیداری اور عبادت کی حالت میں گزارتے ہیں۔[48] علماء کرام کی وعظ و نصیحت پر مبنی تقاریر، نماز جماعت اور گروہی صورت میں مختلف دعاوں جیسے دعائے افتتاح، دعائے ابو حمزہ ثمالی، دعائے جوشن کبیر وغیرہ کا پڑھنا نیز قرآن سروں پر اٹھانا ان راتوں کے اہم رسومات میں سے ہیں۔[49] اس کے علاوہ روزہ داروں کو افطاری اور سحری دینا، اپنے گذشتگان کیلئے نذر و نیاز دینا، غریبوں اور ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرنا نیز مختلف زندانیوں کو رہائی دلانا جیسے امور بھی ان راتوں میں انجام پاتے ہیں۔[50]

رمضان المبارک کے انہی ایام میں شیعوں کے پہلے امام حضرت علیؑ کی شہادت بھی واقع ہوئی ہے اس بنا پر عزاداری کے مراسم بھی ان راتوں میں برگزار ہوتی ہیں۔[51]

حوالہ جات

  1. اوپر جائیں قرشی، سید علی اکبر، قاموس قرآن، ج ۵، ص۲۴۶-۲۴۷.
  2. اوپر جائیں طباطبایی، تفسیر المیزان، ۱۳۶۳ش، ج۲۰، ص۵۶۱.
  3. اوپر جائیں قدمیاری، «شب قدر در غزلیات حافظ»، ص۱۸۰.
  4. اوپر جائیں مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۵ش، ج۲۷، ص۱۸۸.
  5. اوپر جائیں مجیدی خامنہ، «شبہای قدر در ایران»، ص۱.
  6. اوپر جائیں تربتی، «ہمراه با معصومان در شب قدر»، ص۳۳.
  7. اوپر جائیں مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۵ش، ج۲۷، ص۱۹۰.
  8. اوپر جائیں مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۵ش، ص۱۷۸.
  9. اوپر جائیں سورہ قدر، آیت نمبر2.
  10. اوپر جائیں سورہ دخان، آیات ۱-۶.
  11. اوپر جائیں حویزی، تفسیر نور‌ الثقلین، ۱۴۱۵ق، ج‌۵، ص۹۱۸.
  12. اوپر جائیں مجلسی، بحار‌الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۰، ص۵۴.
  13. اوپر جائیں شیخ طوسی، التہذیب، ۱۳۶۵ش، ج۴، ح۱۰۱، ص۳۳۱.
  14. اوپر جائیں مجلسی، بحار النوار، ج۲۵، ص۹۷، بہ نقل از: عابدین زادہ، «امام و شب قدر»، ص۶۴.
  15. اوپر جائیں حسن‌زادہ، ممد الہمم، بہ نقل از: مطلبی و صادقی، «شب قدر در نگاہ مفسران»، ص۲۳.
  16. اوپر جائیں مجیدی خامنہ، «شب‌ ہای قدر در ایران»، ص۱۹.
  17. اوپر جائیں شاکر، «شبی برتر از ہزار ماہ»، ص۵۰.
  18. اوپر جائیں انصاری، «نزول اجمالی قرآن»، ص۲۲۷.
  19. اوپر جائیں مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۵ش، ص ۱۸۲.
  20. اوپر جائیں سید رضی، «بازخوانی فضائل شب قدر»، ص۹۱.
  21. اوپر جائیں عابدین زادہ، «امتیازات و آداب شب قدر»، ص۸۵.
  22. اوپر جائیں طباطبایی، تفسیر المیزان، ۱۳۶۳ش، ج۲۰، ص۵۶۱.
  23. اوپر جائیں صدوق، معانی‌الاخبار، ۱۳۷۹ش، ص۳۱۵، بہ نقل از سید رضی، «بازخوانی فضائل شب قدر»، ص۹۵.
  24. اوپر جائیں سید رضی، «بازخوانی فضائل شب قدر»، ص۹۴.
  25. اوپر جائیں کاشانی، تفسیر منہج الصادقین، ۱۳۴۰ش، ج۱۰، ص۳۰۸.
  26. اوپر جائیں سورہ قدر، آیت۴.
  27. اوپر جائیں وفا، «شب قدر از منظر قرآن»، ص۸۷.
  28. اوپر جائیں وفا، «شب قدر از منظر قرآن»، ص۸۷.
  29. اوپر جائیں عابدین زادہ، «امام و شب قدر»، ص۶۲.
  30. اوپر جائیں مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۵ش، ج۲۷، ص۱۹۰.
  31. اوپر جائیں طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۷۸۶.
  32. اوپر جائیں اتفق مشایخنا [فی لیلة القدر] علی انها اللیلة الثالثة و العشرون من شهر رمضان. صدوق، الخصال، ۱۳۶۲ش، ص۵۱۹.
  33. اوپر جائیں کلینی، اصول کافی، ۱۳۷۵ش، ج۲، ص۷۷۲.
  34. اوپر جائیں کاشانی، منہج الصادقین، ۱۳۴۴ش، ج۴، ص۲۷۴ بہ نقل از افتخاری، «دعا و شب قدر از منظر موسی صدر»، ص۱۷.
  35. اوپر جائیں مسلم، صحیح مسلم، ج،۸ ص۶۵.
  36. اوپر جائیں القاسمی، تفسیر القاسمی‌، ج۱۷، ص۲۱۷.
  37. اوپر جائیں ابن المفتاح، عبدالله، شرح الازهار، ج۱، ص۵۷.
  38. اوپر جائیں سورہ قدر، آیت ۱ و شیخ طوسی، تہذیب، ج۳، ص۸۵.
  39. اوپر جائیں مختاری و صادقی، رضا و محسن، رؤیت ہلال، ۱۴۲۶ق، ج۴، ص۲۹۷۲.
  40. اوپر جائیں مکارم شیرازی، استفتائات جدید، ۱۴۲۷ق، ج۳، ص۱۰۳.
  41. اوپر جائیں مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۵ش، ص۱۹۲.
  42. اوپر جائیں مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۵ش، ص۱۹۲.
  43. اوپر جائیں مجلسی، بحار الانوار، ج۹۵، ص۱۴۵، بہ نقل از: تربتی، «ہمراہ با معصومان در شب قدر»، ص۳۳.
  44. اوپر جائیں مجلسی، بحار الانوار، ج۹۷، ص۹-۱۰، بہ نقل از: شاکر، «شبی برتر از ہزار ماہ»، ص۵۲.
  45. اوپر جائیں مستدرک الوسائل، ج۷، ص۴۷۰، بہ نقل از: تربتی، «ہمراہ با معصومان در شب قدر»، ص۳۴.
  46. اوپر جائیں تربتی، «ہمراہ با معصومان در شب قدر»، ص۳۲.
  47. اوپر جائیں مجلسی، بحارالانوار، ج۹۷،ص۴، بہ نقل از: شاکر، «شبی برتر از ہزار ماہ»، ص۵۲.
  48. اوپر جائیں مجیدی خامنہ، «شب‌ہای قدر در ایران»، ص۲۱.
  49. اوپر جائیں مجیدی خامنہ، «شب‌ہای قدر در ایران»، ص۲۲.
  50. اوپر جائیں مجیدی خامنہ، «شب‌ہای قدر در ایران»، ص۲۲.
  51. اوپر جائیں مجیدی خامنہ، «شب‌ہای قدر در ایران»، ص۱۹.
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *