امام علی علیہ السلام

 

امام علی علیہ السلام

حرم امام علیؑ
منصب شیعوں کے پہلے امام، اہل سنت کے چوتھے خلیفہ
نام علی ابن ابی طالبؑ
کنیت ابو الحسن، ابو السبطین، ابو الریحانتین، ابو تراب، ابو الائمہ …
القاب امیرالمؤمنین، یعسوب الدین، حیدر، مرتضی، نفس رسول، أخو الرسول، زوج البتول، قسیم الجنّۃ والنار …
تاریخ ولادت 13 رجب، سنہ 30 عام الفیل
جائے ولادت کعبہ، مکہ
مدت امامت 29 سال (11-40ھ)
شہادت 21 رمضان، سنہ 40 ہجری
سبب شہادت ضربت ابن ملجم
مدفن نجف، عراق
رہائش مکہ، مدینہ، کوفہ
والد ماجد ابو طالب
والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد
ازواج حضرت فاطمہ، خولہ، ام حبیب، ام البنین، لیلا، اسما، ام سعید
اولاد حسن، حسین، زینب، ام کلثوم، محسن، محمد بن حنفیہ، عباس، ….۔۔
عمر 63 سال
ائمہ معصومینؑ

امام علیؑ • امام حسنؑ  • امام حسینؑ • امام سجادؑ • امام محمد باقرؑ • امام صادقؑ  • امام موسی کاظمؑ • امام رضاؑ  • امام محمد تقیؑ  • امام علی نقیؑ • امام حسن عسکریؑ • امام مہدیؑ

علی بن ابی طالب (23 عالم الفیل – 40ھ) امام علی و امیرالمومنین کے نام سے مشہور، شیعوں کے پہلے امام، صحابی، راوی، کاتب وحی، اہل سنت کے چوتھے خلیفہ، رسول خداؐ کے چچازاد بھائی و داماد، حضرت فاطمہؑ کے شوہر اور گیارہ شیعہ آئمہ کے والد و جد ہیں۔ حضرت ابو طالب آپ کے والد و فاطمہ بنت اسد والدہ ہیں۔ شیعہ و اکثر سنی مؤرخین کے مطابق آپ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی۔ رسول اللہؐ نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو سب سے پہلے آپ ایمان لے آئے۔ شیعوں کے مطابق آپ بحکم خدا رسول خداؐ کے بلا فصل جانشین ہیں۔

آپ کے سلسلہ میں بہت زیادہ فضائل نقل ہوئے ہیں؛ آنحضرت نے دعوت ذوالعشیرہ میں آپ کو اپنا وصی و جانشین معین کیا۔ شب ہجرت جب قریش رسول خدا کو قتل کرنا چاہتے تھے، آپ نے ان کے بستر پر سو کر ان کی جان بچائی۔ اس طرح حضورؐ نے مخفیانہ طریقہ سے مدینہ ہجرت فرمائی۔ مدینہ میں جب مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت قائم ہوا تو رسول خدا نے آپ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ شیعہ و سنی مفسرین کے مطابق قرآن مجید کی تقریبا 300 آیات کریمہ آپ کی فضیلت میں نازل ہوئی ہیں۔ جن میں سے آیہ مباہلہ و آیہ تطہیر و بعض دیگر آیات آپ کی عصمت پر دلالت کرتی ہیں۔

آپ جنگ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ شریک تھے۔ جنگ تبوک میں رسول اللہؐ نے مدینے میں آپ کو اپنے جانشین کے طور پر مقرر کیا۔ آپ نے جنگ بدر میں بہت سے مشرکین کو قتل کیا۔ جنگ احد میں آنحضرت کی جان کی حفاظت کی۔ جنگ خندق میں عمرو بن عبدود کو قتل کرکے جنگ کا خاتمہ کر دیا اور جنگ خیبر میں در خیبر کو اکھاڑ کر جنگ فتح کر لی۔

رسول خدا نے اپنے آخری حج سے واپسی پر آیہ تبلیغ کے حکم خدا کے مطابق، غدیر خم کے مقام پر لوگوں کو جمع کیا۔ خطبہ غدیر پڑھنے کے بعد حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کیا اور فرمایا؛ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں۔ خدایا اس کو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے، اس کو دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے۔ اس خطبے کے بعد صحابہ میں سے بعض جیسے عمر بن خطاب نے آپ کو مبارک باد پیش کی اور امیرالمومنین کے لقب سے خطاب کیا۔ شیعہ و بعض اہل سنت مفسرین کے مطابق، آیہ اکمال اسی دن نازل ہوئی ہے۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق، من کنت مولاہ فعلی مولاہ کی روز غدیر کی تعبیر، جانشین معین کرنے کے معنی ہے۔ اسی بنیاد پر شیعہ دوسرے فرق کے مقابل اپنا امتیاز آنحضرت کی جانشینی کے لئے حضرت علی کے اللہ تعالی کی طرف سے منتخب ہونے کو قرار دیتے ہیں۔ جبکہ اہل سنت اسے عوامی انتخاب مانتے ہیں۔

رسول اللہؐ کے وصال کے بعد سقیفہ میں ایک گروہ نے خلیفہ کے عنوان سے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی۔ قبائلی رقابت، کینہ و حسد کو خلافت کے مسئلہ میں آنحضرت کے فرمان کے مطابق حضرت علی کو خلیفہ نہ ماننے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ آپ نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔ اس کے بعد خود اصل بیعت اور زمان بیعت کے سلسلہ میں اختلاف بظر پایا جاتا ہے۔ بعض منابع کے مطابق، آپ نے صریح طور پر ابوبکر کے ساتھ مناظرہ کیا اور اس میں انہوں نے ابوبکر کی طرف سے واقعہ سقیفہ میں خلاف ورزی کرنے اور اہل بیت پیغمبر کے حق کو نظر انداز کرنے پر مزمت کی۔ شیعہ و بعض سنی منابع کے مطابق، خلیفہ کے ساتھیوں نے حضرت علی سے بیعت لینے کے لئے ان کے گھر پر حملہ کیا۔ اس میں حضرت فاطمہ زخمی ہوئیں، ان کا بچہ ساقط ہوگیا اور کچھ عرصے کے بعد ان کی شہادت ہوگئی۔ امام علی نے مختلف مواقع اور متعدد اقوال میں واقعہ سقیفہ پر اعتراض کیا اور جانشینی کے مسئلہ میں اپنے حق کو یاد دلایا۔ اس کی مشہور ترین مثال خطبہ شقشقیہ ہے۔

امام علی نے خلفائے ثلاثہ کے 25 سالہ دور خلافت میں تقریبا سیاسی و حکومتی امور سے دوری اختیار کی اور فقط علمی و سماجی امور میں مشغول رہے۔ جیسے جمع آوری قرآن کریم، جو مصحف امام علی کے نام سے مشہور ہے، مختلف امور میں خلفاء کو مشورہ دینا، جیسے قضاوت، انفاق فقراء، تقریبا ایک ہزار غلاموں کو خریدنا، انہیں آزاد کرنا، زراعت و شجرکاری، کنویں کھودنا، مساجد تعمیر کرنا و اماکن و املاک وقف کرنا، جن کی سالانہ آمدنی چالیس ہزار دینار تک ذکر ہوئی ہے۔ اسی طرح سے خلفاء آپ سے قضاوت جیسے مختلف حکومتی امور کے بارے میں مشورہ کیا کرتے تھے۔

آپ نے خلیفہ سوم کے بعد مسلمانوں کے اصرار پر خلافت و حکومت کو قبول کیا۔ آپ اپنی حکومت میں عدل و انصاف کو بظور خاص اہمیت دیتے تھے۔ آپ نے خلفاء کی اس روش کا مقابلہ کیا، جس میں افراد کے سوابق کے اعتبار سے انہیں بیت المال سے حصہ دیا جاتا تھا۔ آپ نے حکم دیا کہ عرب و عجم، ہر مسلمان کو چاہے اس کا تعلق کسی بھی خاندان و قبیلہ سے ہو، بیت المال میں سب کا حصہ برابر ہے اور انہوں نے ان تمام زمینوں، جنہیں عثمان نے مختلف افراد کے حوالے کر دیا تھا، بیت المال کو واپس کیا۔

امام علی دینی امور، قانون کے دقیق اجرا اور صحیح طریقے سے حکومت چلانے کے معاملے میں بیحد سنجیدہ و نظر انداز نہ کرنے والے تھے اور یہی سبب تھا جس نے آپ کو بعض افراد کے لئے ناقابل برداشت بنا دیا تھا۔ وہ اس راہ میں حتی اپنے نزدیک ترین افراد کے ساتھ بھی سختی سے پیش آتے تھے۔ امام علی کے مطابق حاکم کا حق اپنی رعیت پر اور رعیت کا حق اپنے حاکم پر، بزرگ ترین حقوق میں سے ہے جسے خداوند عالم نے قرار دیا ہے اور یہ کاملا دو طرفہ ہے اور دونوں طرف سے حقوق کی رعایت بیحد ثمرات کی حامل ہے۔ جس وقت حضرت نے مالک اشتر کو مصر کا گورنر منصوب کیا تو انہیں تمام لوگوں کے ساتھ چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان، مہربانی و خوش اخلاقی و انسانی سلوک سے پیش آنے کی نصیحت فرمائی۔ حضرت کو اپنی مختصر حکومت کے عرصے میں تین سنگین داخلی جنگوں جمل، صفین اور نہروان کا سامنا کرنا پڑا۔

آخر کار محرام مسجد کوفہ میں نماز کی حالت میں ابن ملجم مرادی نامی ایک خارجی کے ہاتھوں شہید ہوئے اور مخفیانہ طور پر نجف میں دفن کئے گئے۔ روضہ امام علی شہر نجف میں شیعوں کے مقدس مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ جس کی زیارت پر شیعہ توجہ مبذول کرتے ہیں۔ آپ کے روضے میں دیگر مشاہیر بھی مدفون ہیں۔ جن کا تذکرہ بعض مصادر میں حرم امام علی میں مدفون شخصیات کے ضمن میں ہوا ہے۔

نحو، کلام، فقہ و تفسیر جیسے بہت سے اسلامی علوم کا سلسلہ آپؑ تک منتہی ہوتا ہے اور تصوف کے مختلف مکاتب فکر اپنے سلسلہ سند کو آپ ہی سے متصل کرتے ہیں۔ امام علی شیعوں کے یہاں ہمیشہ سے خاص مرتبہ و منزلت رکھتے ہیں اور وہ آنحضرت کے بعد بہترین، با تقوی ترین، عالم ترین انسان اور آپ کے بر حق جانشین ہیں۔ اسی بنیاد پر صحابہ کے ایک گروہ کو پیغمبر اکرم کی حیات سے ہی مطیع و محب علی یعنی شیعہ علی کہا جاتا تھا۔ مشہور کتاب نہج البلاغہ آپ کے خطبات و اقوال و مکتوبات کا منتخب مجموعہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مکتوبات کی نسبت بھی آپ کی طرف دی گئی ہے جسے رسول خدا نے املا فرمایا اور آپ نے تحریر کیا۔ آپ کے بارے میں مختلف زبانوں میں بہت سی تحریریں لکھی گئیں ہیں۔

فہرست

 [چھپائیں] 
  • 1نسب، القاب و اوصاف ظاہری
  • 2سوانح حیات
    • 2.1ولادت سے ہجرت تک
    • 2.2ہجرت کے بعد
    • 2.3رحلت پیغمبر اکرمؐ کے بعد
    • 2.4دوران حکومت
    • 2.5ازواج و اولاد
  • 3غزوات میں شرکت
    • 3.1یمن کی ذمہ داری
  • 4واقعۂ غدیر
  • 5سقیفہ
    • 5.1امام علی سے مخالفت کا سابقہ
    • 5.2حضرت علی کا موقف
  • 6خلفائے ثلاثہ کا دور
    • 6.1ابوبکر
    • 6.2عمر
    • 6.3عثمان
  • 7دوران حکومت
    • 7.1والی و کارگزار
    • 7.2جنگیں
  • 8شہادت
    • 8.1روضہ
  • 9فضائل و مناقب
    • 9.1قرآن میں امام علی کے فضائل
    • 9.2دیگر فضائل
  • 10امامت و ولایت
  • 11اقوال اور آثار
    • 11.1آپ کے اقوال
    • 11.2آپ کے مکتوبات
  • 12اصحاب
  • 13مزید مطالعہ
  • 14متعلقہ مضامین
  • 15حوالہ جات
  • 16مآخذ
  • 17بیرونی روابط

نسب، القاب و اوصاف ظاہری

  • نسب: علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قُصَی بن کلاب، ہاشمی قرشی ہیں۔[1]
  • والد: آپ کے والد حضرت ابو طالب ایک سخی اور عدل پرور انسان اور عرب کے درمیان انتہائی قابل احترام تھے۔ وہ رسول اللہؐ کے چچا و حامی اور قریش کی بزرگ شخصیات میں سے تھے۔[2]
  • والدہ: آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف ہیں۔[3]
  • بھائی: طالب، عقیل اور جعفر ہیں۔
  • بہنیں: ہند یا ام ہانی، جمانہ، ریطہ یا ام طالب اور اسماء ہیں۔[4]

مورخین کے مطابق، حضرت ابو طالب و فاطمہ بنت اسد کی شادی پہلی شادی ہے جس میں زوج و زوجہ دونوں ہاشمی ہیں[5] اور اس لحاظ سے امام علی ؑ پہلے فرد ہیں جن کے والد و والدہ دونوں ہاشمی ہیں۔[6]

کنیت، القاب و صفات

  • کنیت: ابو الحسن،[7] ابو الحسین، ابو السبطین، ابو الریحانتین، ابو تراب و ابو الآئمہ۔[8]
  • القاب: امیرالمؤمنین، یعسوب الدین والمسلمین، مبیر الشرک والمشرکین، قاتل الناکثین والقاسطین والمارقین، مولٰی المؤمنین، شبیہ ہارون، حیدر، مرتضی، نفس الرسول، أخو الرسول، زوج البتول، سیف اللّہ‏ المسلول، امیر البررة، قاتل الفجرة، قسیم الجنّة والنار، صاحب اللواء، سیّد العرب، کشّاف الکرب، الصدّیق الأکبر، ذوالقرنین، الہادی، الفاروق، الداعی، الشاہد، باب المدینة، والی، وصیّ، قاضی دین رسول اللّہ‏ؐ، منجز وعدہ، النبأ العظیم، الصراط المستقیم والأنزع البطین[9]

لقب امیر المؤمنین

تفصیلی مضمون: امیرالمؤمنین (لقب)

امیرالمومنین کے معنی مؤمنین کے امیر، حاکم اور رہبر کے ہیں۔ اہل تشیع کے مطابق یہ لقب حضرت علیؑ کے ساتھ مختص ہے۔ ان کے مطابق یہ لقب پہلی بار پیغمبر اسلامؐ کے زمانے میں حضرت علیؑ کے لئے استعمال کیا گیا اور صرف آپؑ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی لئے شیعہ حضرات اس کا استعمال دوسرے خلفاء حتی امام علیؑ کے علاوہ دوسرے ائمہ کے لئے بھی صحیح نہیں سمجھتے ہیں۔[10]

جسمانی اوصاف

مختلف مصادر کے مطابق آپ کا قد درمیانہ، آنکھیں سیاہ و کھلی، ابرو کمان کی مانند کھنچے و ملے ہوئے، چہرہ انتہائی خوبصورت و دلکش، چہرے کی رنگت گندمی، داڑھی گھنی اور شانے کشادہ تھے۔[11] بعض منابع کے مطابق رسول اللہ نے انہیں بطین کے لقب سے نوازا اسی وجہ سے بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ امام علی جسمانی لحاظ سے موٹاپے کی طرف مائل تھے لیکن بعض نے اس بطین سے البطین من العلم (علم سے بھرا ہوا) مراد لیا ہے۔[12] دیگر اور قرائن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں ان میں سے بعض زیارتوں میں حضرت علی کو بطین کی صفت سے یاد کیا گیا ہے۔[13]

نیز در قواعد عربی میں وزن فعیل پر آئے ہوئے الفاظ اگر قرائن خارجہ سے خالی ہو تو انھیں مصغر پڑھا جاتا ہے اس بنا پر بطین باء پر ضمه اور طاء پر فتحه کے ساتھ ادا ہوگا  یعنی جس کا جسم حجیم ہو لیکن بیٹ اندر ہو یعنی چھوٹے پیٹ کا مالک 

نیز اس کے علاوه مولا کائنات کا طرز نوش و خوراک بھی اسی مطلب پر دال ہے مزید …

آپ کی قدرت بدنی کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ جس کسی کے ساتھ بھی لڑے اس کو زمین پر دے مارا۔[14] ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں لکھتے ہیں: امامؑ کی جسمانی قوت ضرب المثل میں بدل گئی ہے۔ آپ ہی تھے جنہوں نے در خیبر اکھاڑا اورجبکہ ایک جماعت نے وہ دروازہ دوبارہ لگانے کی کوشش کی لیکن ایسا ممکن نہ ہوا۔ آپ ہی تھے جنہوں نے ہبَل نامی بت کو جو حقیقتاً بڑا بت تھا، کعبہ کے اوپر سے زمین پر دے مارا۔ آپ ہی تھے جنہوں نے اپنی خلافت کے زمانے میں ایک بڑے پتھر کو اکھاڑ دیا اور اس کے نیچے سے پانی ابل پڑا، جبکہ آپ کے لشکر میں شامل تمام افراد اس میں ناکام ہو چکے تھے۔[15]

سوانح حیات


 
مولود کعبہ کے بارے میں ایرانی آرٹسٹ فرشچیان کی فنکاری

حضرت علیؑ مردوں میں سب سے پہلے حضرت محمدؐ پر ایمان لائے۔[16] آپ شیعوں کے پہلے امام[17] اور اہل سنت کے چوتھے خلیفہ ہیں۔

ولادت سے ہجرت تک

امام علیؑ 13 رجب 30 عام الفیل بروز جمعہ (23 سال قبل از ہجرت) خانہ کعبہ کے اندر متولد ہوئے۔[18] کعبہ میں آپ کی ولادت کی روایت کو شیخ صدوق، شیخ مفید سید رضی، قطب راوندی و ابن شہرآشوب سمیت تمام شیعہ علماء اور حاکم نیشابوری، حافظ گنجی شافعی، ابن جوزی حنفی، ابن صباغ مالکی، حلبی اور مسعودی سمیت بیشتر سنی علماء متواتر (مسَلَّمہ) سمجھتے ہیں۔[19]

6 برس کی عمر میں (ہجرت سے 17 سال پہلے) جب مکہ میں قحط پڑا تو آپ کو آنحضرت کے گھر جبکہ آپ کے بھائی جعفر کو عباس بن عبد المطلب کے گھر جانا پڑا چونکہ آپ کے والد ابو طالب اس وقت اپنے کثیر العیال خانوادے کا خرچ اٹھانے سے قاصر تھے۔[20] امام علی نے اپنے ایک خطبہ میں اس دور میں آنحضرت کے نیک سلوک کی طرف اشارہ کیا ہے۔[21]

بعثت پیغمبر کے بعد (ہجرت سے 13 سال قبل) مردوں میں آپ و عورتوں میں حضرت خدیجہ سب سے پہلے آنحضرت پر ایمان لائیں۔[22][23] آپ اس وقت دس برس کے تھے اور پیغمبر کے ہمراہ مخفیانہ طور پر مکہ کے اطراف کے پہاڑوں میں نماز پڑھا کرتے تھے۔[24] [25] جب آنحضرت نے علنی طور پر دعوت اسلام شروع کی اور حکم ہوا کہ اپنے اعزا کو اسلام کی دعوت دیں جسے دعوت ذو العشیرہ یا واقعہ یوم الدار کہتے ہیں، میں آپ نے آنحضرتؐ کی حمایت کی اور انہوں نے آپ کو اپنا بھائی، وصی و جانشین قرار دیا۔[26] ہجرت سے 6 سال قبل جب مسلمانوں کو مشرکین مکہ نے شعب ابی طالب میں محصور کر دیا اور ان کی خرید و فروش، آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی، اس عرصہ میں حضرت ابو طالب نے بارہا آنحضرت کی جگہ پر آپؑ کو سلایا۔[27] محاصرہ ختم ہونے کے کچھ عرصہ کے بعد ہجرت سے تین سال پہلے جب آپ 19 سال کے تھے تو والد کے سایہ سے محروم ہو گئے۔[28] حضرت ابو طالب کے بعد حالات مسلمانوں کے لئے بدتر ہو گئے اور آنحضرت نے مدینہ ہجرت کا ارادہ کیا۔ شب ہجرت میں جب آپ کی عمر 23 تھی، آپ مشرکین کی پیغمبر اکرم کے قتل کی سازش سے آگاہ ہونے کے باوجود ان کی جگہ پر سوئے۔ یہ شب لیلۃ المبیت کے نام سے مشہور ہے۔[29] آپ چند روز کے بعد آنحضرتؐ کے پاس جمع امانتوں کو واپس کرکے ایک گروہ کے ساتھ حضرت فاطمہ و فاطمہ بنت اسد کے ہمراہ مدینہ گئے۔[30]

ہجرت کے بعد

مدینہ ہجرت کرتے وقت آنحضرت نے مقام قبا میں تقریبا 15 دن تک رک کر حضرت علی اور ان کے ہمراہ آنے والے افراد کا انتظار کیا۔[31] مدینہ میں مسجد النبی کی تعمیر کے بعد آنحضرتؐ نے اپنے پہلے خطبے میں مہاجرین و انصار کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور حضرت علی کو اپنا بھائی بنایا۔[32] سنہ 2 ہجری میں مسلمانوں و مشرکین کے درمیان جنگ بدر پیش آئی۔ دشمن کی فوج کے بہت سے افراد جن میں سردار بھی شامل تھے، حضرت علی کے ہاتھوں قتل ہوئے۔[33] جنگ بدر کے بعد[34] آپ نے 25 برس کی عمر میں حضرت فاطمہ سے شادی کی[35] جبکہ ان کے اور بھی طلبگار تھے۔[36] آنحضرت نے بذات خود صیغہ عقد جاری کیا۔[37]

سنہ 3 ہجری مین مشرکین نے جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لئے جنگ احد مسلمانوں پر تحمیل کی۔[38] آپ ان افراد میں سے تھے جنہوں کے جنگ کو ترک نہیں کیا اور آنحضرت کا دفاع کرتے رہے۔[39] نقل ہوا ہے کہ اس جنگ میں آپ کو 16 زخم لگے۔[40] شیخ کلینی و طبری کے مطابق، یہ مشہور جملہ: سَیفَ اِلّا ذوالفَقار، لا فَتی اِلّا عَلیّ اس جنگ میں حضرت جبرئیل نے آپ کی مدح میں کہا ہے۔[41] اسی سال آپ کے بڑے بیٹے امام حسن کی ولادت ہوئی۔[42] سنہ 4 ہجری میں جب آپ کی عمر 27 سال تھی، آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد کی وفات ہوئی۔[43] آپ کے دوسرے فرزند امام حسین کی ولادت اسی سال میں ہوئی۔[44]

سنہ 5 ہجری میں جنگ خندق پیش آئی[45] اور حضرت علی کی شجاعت کی وجہ سے عمرو بن عبدود کے قتل پر اس کا خاتمہ ہوا۔[46] اسی سال آپ کی بیٹی حضرت زینب کی ولادت ہوئی۔[47] سنہ 6 ہجری میں آنحضرت و کفار کے درمیان صلح حدیبیہ ہوئی، جس کی کتابت آپ نے کی۔[48] اسی سال آپ کی دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم کی ولادت ہوئی۔[49] اس سال کے ماہ شعبان میں آنحضرت نے سریہ فدک و یہودیوں کے سرکوبی کے لئے آپ کو منتخب کیا۔[50] سنہ 7 ہجری میں جنگ خیبر پیش آئی۔[51] اس جنگ میں آپ پرچم داروں میں سے تھے[52] اور آپ ہی کے پرچم تلے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔[53] سنہ 8 ہجری 31 برس کی عمر میں فتح مکہ کے موقع پر آپ فوج کے سرداروں میں سے تھے[54] اور آپ نے کعبہ میں موجود بتوں کو توڑنے آنحضرت کی نصرت کی۔[55]

سنہ 9 ہجری میں جنگ تبوک پیش آئی۔ آنحضرت نے پہلی بار حضرت علی کو مدینہ میں اپنے جانشین و اپنے خانوادے کی محافظت پر مامور کیا۔ یہ واحد جنگ ہے جس میں امیر المومنین نے شرکت نہیں کی۔[56] مشرکین کی طرف سے پھیلائی گئی افواہ کے بعد آپ نے خود کو آنحضرت تک پہچایا اور انہیں اس ماجرا سے آگاہ کیا۔ آنحضرت نے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو حضرت موسی سے تھی۔[57] یہ قول حدیث منزلت کے نام سے مشہور ہے۔[58] اسی سال آپ کو آنحضرت نے مکہ کے مشرکین کے اجتماع میں آیات برائت کے ابلاغ کے لئے مقرر کیا[59] اور آپ نے روز عید الاضحی بعد از ظہر ان آیات کو ابلاغ کیا۔[60] 24 ذی الحجہ سنہ 9 ہجری[61] میں آنحضرت نے علی، فاطمہ حسن و حسین کے ساتھ نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کا اعلان کیا۔[62] سنہ 10 ہجری میں آنحضرت نے حضرت علی کو اہل یمن کو دعوت اسلام دینے کے لئے وہاں بھیجا۔[63] اسی سال آنحضرت حج کے لئے تشریف لے گئے۔[64] حضرت علی یمن سے روانہ ہوئے اور مکہ میں آپ (ص) سے ملحق ہو گئے۔[65] آنحضرت نے حج سے واپسی پر غدیر خم کے مقام پر آپ کو اپنا وصی و جانشین قرار دیا۔[66] یہ واقعہ غدیر خم کے نام سے مشہور ہے، اس وقت آپ کی عمر 33 سال تھی۔

رحلت پیغمبر اکرمؐ کے بعد

سنہ 11 ہجری میں آنحضرت (ص) نے وفات پائی۔[67] شیعوں کے مطابق، حضرت علی رحلت پیغمبر کے بعد 24 سال کی عمر میں امامت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ امام علی آنحضرت کی تکفین و تجہیز میں مشغول تھے کہ ایک گروہ نے سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنا دیا۔ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بعد ابتداء میں حضرت علی نے ان کی بیعت نہیں کی[68] لیکن بعد میں آخرکار بیعت کر لی۔[69] شیعوں کا ماننا ہے کہ یہ بیعت اجباری تھی[70] اور شیخ مفید کا ماننا ہے کہ امام علی نے ہرگز بیعت نہیں کی۔[71] [72] شیعوں کے مطابق، خلیفہ کے ساتھیوں نے امام علی سے بیعت لینے کے لئے ان کے گھر پر حملہ کیا[73] جس میں حضرت فاطمہ زخمی ہوئیں اور ان حمل ساقط ہو گیا۔[74] اسی زمانہ میں حضرت ابوبکر نے باغ فدک کو غصب کر لیا[75] اور حضرت ان کا حق لینے کے لئے اٹھے۔[76] حضرت فاطمہ گھر پر ہونے والے حملے کے بعد مریض ہو گئیں اور کچھ عرصہ کے بعد سنہ 11 ہجری میں شہید ہو گئیں۔[77]

سنہ 13 ہجری میں حضرت ابوبکر کی وفات ہوئی۔[78] ان کی وصیت کے مطابق عمر بن خطاب خلیفہ بنے۔[79] سنہ 14 ہجری محرم میں حضرت عمر ساسانیوں سے جنگ کے لئے مدینہ سے خارج ہوئے اور صرار نامی مقام پر پڑاو ڈالا۔ انہوں نے امام علی کو مدینہ میں اپنی جگہ قرار دیا تا کہ وہ خود اس جنگ کی فرماندہی اپنے ذمے لیں۔ لیکن بعض صحابہ و امام علی سے مشورہ کے بعد انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا اور سعد بن ابی وقاص کو جنگ کے لئے بھیجا۔[80] معادی خواہ نے ابن اثیر سے منقول قول سے استناد کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ دوسری خلافت کے زمانہ میں اس کے ابتدائی سالوں کے بعد سے منصب قضاوت کے مالک تھے۔[81] [82] سنہ 16 ہجری یا سنہ 17 ہجری میں[83] امام علی کے مشورے کو حضرت عمر نے قبول کرکے پیغمبر کی مدینہ ہجرت کو اسلامی تاریخ کا مبداء قرار دیا۔[84] [85] سنہ 17 ہجری[86] میں عمر فتح بیت المقدس کے لئے شام روانہ ہو گئے اور امام علی کو مدینہ میں اپنا جانشین قرار دیا۔[87] [88] اسی سال[89] عمر نے اصرار اور دھمکی سے علی و فاطمہ کی بیٹی ام کلثوم سے شادی کی۔[90] [91] سنہ 18 ہجری میں ایک بار پھر عمر نے شام کے سفر میں امام علی کو مدینہ میں اپنا جانشین معین کیا۔[92] عمر نے حملے کے بعد اور مرنے سے پہلے سنہ 23 ہجری[93] میں اپنے بعد خلافت کے لئے ۶ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔[94] جس میں حضرت بھی شامل تھے۔[95] اس میں انہوں نے عبد الرحمن بن عوف کو تعیین کنندہ شخص کا درجہ دیا۔ عبد الرحمن نے پہلے امام علی سے چاہا کہ کتاب خدا و سنت پیغمبر و سیرت شیخین پر عمل کی شرط پر خلافت کو قبول کر لیں لیکن آپ نے سیرت شیخین کو قبول نہیں کیا اور جواب دیا کہ میں اپنے علم و استعداد و اجتہاد سے کتاب خدا و سنت پیغمبر پر عمل کروں گا۔[96] اس کے بعد عبد الرحمن نے عثمان کو ان شرطوں کے ساتھ خلافت کی دعوت دی انہوں نے قبول کر لیا تو انہیں خلافت مل گئی۔[97] [98] [99]

معادی خواہ ابن جوزی کی کتاب المنتظم سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں: حضرت علی سنہ 24 ہجری میں بھی قضاوت کے منصب پر فائز تھے۔[100] سنہ 25 ہجری میں[101] حضرت عثمان نے قرآن کی جمع آوری و تدوین کا حکم دیا۔[102] سیوطی نے امام علی سے نقل کیا ہے کہ تدوین و جمع آوری قرآن کا کام ان کے مشورہ پر انجام دیا گیا ہے۔[103] [104] سنہ 26 ہجری میں آپ کے پانچویں فرزند عباس بن علی کی ولادت ہوئی۔[105] سنہ 35 ہجری میں مدینہ میں لوگوں نے ناراض ہو کر عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔[106] امام علی محاصرہ کے وقت مدینہ میں نہیں تھے۔[107] معادی خواہ نے اس سفر کو ینبع کی طرف ذکر کیا ہے جو حضرت عثمان کی خواہش پر ہوا تھا۔[108] اہل سنت مصادر کے مطابق امام علی نے حسنین کو خلیفہ کی حفاظت پر مامور کیا تھا[109] لیکن آخرکار شورشیوں نے انہیں قتل کر ڈالا[110] اور ان کے قتل کے بعد لوگوں نے حضرت علی کا رخ کیا تا کہ وہ خلافت کو قبول کر لیں۔[111]

دوران حکومت

حضرت علی ماہ ذی الحجہ سنہ 35 ہجری میں قتل عثمان کے بعد خلیفہ بنے۔[112] [113] عثمان کے بعض قریبیوں اور بعض اصحاب پیغمبر جنہیں قاعدین کہا جاتا ہے،[114] کے علاوہ مدینہ میں موجود تمام صحابہ نے آپ کی بیعت کی۔[115] آپ نے اپنی خلافت کے دو دن بعد اپنے اولین خطبے میں عثمان کے زمانہ مین ناحق قبضہ کئے گئے اموال[116] کو واپس کرنے اور بیت المال کی عادلانہ تقسیم کا حکم دیا۔[117] سنہ 36 ہجری میں طلحہ و زبیر نے آپ کی بیعت کو توڑ دیا اور مکہ میں عائشہ کے ساتھ ملحق ہو گئے[118] جو خون عثمان کا انتقام لینے کے لئے اٹھی تھیں، اس کے بعد انہوں نے بصرہ کی سمت حرکت کی۔[119] اس طرح جنگ جمل، آپ سے ہونے والی[120] اور مسلمانوں کی پہلی داخلی جنگ ہوئی[121] جو امام علی و ناکیثن (بیعت توڑنے والے) کے درمیان بصرہ میں ہوئی۔[122] طلحہ[123] و زبیر[124] اس جنگ میں مارے گئے اور عائشہ کو مدینہ واپس بھیج دیا گیا۔[125] آپ پہلے بصرہ گئے اور آپ نے وہاں عمومی معافی کا اعلان کیا[126] اور رجب سنہ 36 ہجری میں کوفہ گئے اور اسے مرکز خلافت قرار دیا۔[127] اسی سال امام نے معاویہ کو بیعت حکم دیا اس کے انکار کے بعد آپ نے اسے شام کی حکومت سے معزول کر دیا۔[128] ماہ شوال سنہ 36 ہجری میں آپ نے شام پر لشکر کشی کی۔[129] صفین کے علاقہ میں جنگ صفین سنہ 36 ھ کے اواخر اور سنہ 37 ہجری کے اوائل میں واقع ہوئی۔[130] معادی خواہ کا ماننا ہے کہ ماہ صفر سنہ 37 ھ کے برخلاف جسے طبری و ابن اثیر نے ذکر کیا ہے، اوج جنگ سنہ 38 ہجری میں ہوئی ہے۔[131] [132] جب امام علی کی فوج جنگ جیت رہی تھی[133] تو معاویہ کی فوج نے عمرو عاص کی چال سے قرآن کو نیزوں پر بلند کر دیا تا کہ وہ ان کے درمیان حکم کرے۔[134] امام نے مجبوری میں اپنی فوج کے باغیوں کے فشار کے تحت حکمیت کو قبول کر لیا اور ان کے اجبار کی وجہ سے ابو موسی اشعری کو حکم قرار دیا۔[135] لیکن حکمیت کو قبول کرنے کے کچھ ہی دیر بعد امام پر نئے اعتراضات ہونے لگے۔[136] بعض لوگوں نے سورہ مائدہ کی آیت 44 و سورہ حجرات کی آیت 9 سے استدلال کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا اور حکمیت قبول کرنے کو کفر مانتے ہوئے اس سے توبہ کیا۔[137] تعجب کی بات یہ تھی کہ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے کچھ دیر پہلے امام کو حکمیت کے لئے مجبور کیا تھا۔[138] انہوں نے امام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کفر سے توبہ کریں اور معاویہ کے ساتھ ہوئے وعدہ کو نقض کریں۔ لیکن امام نے نقض حکمیت کو قبول نہیں کیا[139] اور کہا حکمین کے قرآن کے مطابق حکم نہ کرنے صورت میں جنگ جاری رکھی جا سکتی ہے۔[140]

حکمیت کے وقت ابو موسی اشعری نے امام علی و معاویہ دونوں کو خلافت سے معزول کر دیا۔[141] نگاه کریں: ابن ابی ‏الحدید، شرح نهج البلاغة، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۲۵۵. اس کے بعد عمرو عاص نے معاویہ کو خلافت پر باقی رکھا۔[142] حکمیت کے بعد[143] [144] امام کے ماننے والوں میں سے ایک گروہ نے اس بات کی مخالفت کی اور اسے دین سے برگشت سے تعبیر کرتے ہوئے ایمان میں شک کیا۔[145] اس دوران ایک گروہ جو خوارج کی بنیادی افراد میں سے تھے انہوں نے قبول حکمیت کو کفر کہا اور وہ سپاہ امام سے جدا ہو گئے اور کوفہ کے بجائے حرورا چلے گئے۔[146]

خوارج کے اعتراضات صفین کے 6 ماہ بعد تک جاری رہے۔ اسی وجہ سے امام نے عبد اللہ بن عباس اور صعصعہ بن صوحان کو ان کے پاس گفتگو کے لئے بھیجا لیکن ان لوگوں نے ان دونوں کی بات نہیں سنی اور لشکر میں واپس آنے کے لئے آمادہ نہیں ہوئے۔ اس کے بعد امام نے ان سے کہا کہ وہ بارہ افراد کا انتخاب کر لیں اور امام بھی بارہ افراد کے ہمراہ ان سے گفتگو کے لئے بیٹھے۔[147] امام نے ان کے سرداروں کے خطوط بھی لکھے اور انہیں دعوت دی کہ وہ مومنین کی طرف لوٹ آئیں لیکن عبد اللہ بن وہب نے صفین کا تذکرہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ علی دین سے خارج ہو چکے ہیں انہیں توبہ کرنا چاہئے۔ اس کے بعد بھی امام نے بارہا قیس بن سعد و ابو ایوب انصاری جیسے افراد کو ان کے پاس بھیجتے رہے، انہیں اپنی طرف بلاتے رہے اور انہیں امان بھی دی[148] اور جب ان کے تسلیم ہونے سے مایوس ہو گئے تو ٓآپ نے چودہ ہزار کے لشکر کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ آپ نے تاکید کہ کوئی بھی جنگ شروع نہیں کرے گا اور آخر میں نہروان والوں نے جنگ شروع کی۔[149] آغاز جنگ کے ساتھ ہی نہایت سرعت سے تمام خوارج قتل یا زخمی ہوگئے، زخمیوں میں سے چار سو افراد کو ان کے گھر والوں کے حوالے کیا گیا۔ امام کے لشکر میں سے دس سے بھی کم افراد شہید ہوئے۔ نہروان میں خوارج میں سے دس سے کم افراد فرار ہونے میں کامیاب رہے ان میں سے ایک عبد الرحمن بن ملجم مرادی،[150] قاتل امام بھی تھا۔ ابن ملجم مرادی نے آپ کو 19 رمضان سنہ 40 ہجری فجر کے وقت کوفہ میں اپنی شمشیر سے زخمی کیا اور آپ اس کے دو روز بعد 21 رمضان میں 63 برس کی عمر میں شہید ہوئے اور مخفیانہ طور پر دفن ہوئے۔[151]

ازواج و اولاد

حضرت فاطمہ زہرا کے ہمراہ شادی

تفصیلی مضمون: ازدواج حضرت علی و فاطمہ

امام علیؑ کی پہلی زوجہ رسول اللہؐ کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراءؑ تھیں۔[152] علیؑ سے پہلے ابوبکر، عمر بن خطاب اور عبد الرحمن بن عوف نے بنت رسولؐ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تاہم رسول اللہؐ اس بارے میں وحی الہی کے منتظر تھے۔[153] حضرت فاطمہ کے ساتھ حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کی شادی کی تاریخ میں اختلاف پایا جاتا ہے: بعض کا کہنا ہے کہ یہ شادی اول ذی الحجہ سنہ 2 ہجری کو ہوئی[154]، بعض کے مطابق شوال میں ہوئی اور بعض دیگر نے 21 محرم میں قرار دی ہے۔[155] حضرت علی و فاطمہ کے پانچ بچے ہیں: حسن، حسین، زینب، ام کلثوم[156] و محسن جو ولادت سے پہلے سقط ہوئے۔[157] [158]

دیگر ازواج

آپ نے حضرت زہرا کی حیات میں کوئی شادی نہیں کی۔ ان کی شہادت کے بعد آپ نے شادیاں کیں جن میں:

  • امامہ بنت ابی العاص بن ربیع کے ساتھ شادی۔ امامہ کی والدہ رسول اللہؐ کی بیٹی زینب بنت محمدؐ تھیں۔
  • ام البنین فاطمہ بنت حزام بن دارم کلابیہ، دوسری خاتون تھیں جو امیرالمؤمنینؑ کے حبالہ نکاح میں آئیں اور حضرت عباسؑ، عثمان، جعفر اور عبد اللہ آپ کے بیٹے ہیں اور سب کربلا میں شہید ہوئے۔
  • لیلا بنت مسعود بن خالد
  • اسماء بنت عمیس
  • ام حبیب بنت ربیعہ تغلبیہ (الصہبا کے نام سے مشہور)
  • خولہ بنت جعفر بن قیس حنفیہ محمد بن حنفیہ بن علیؑ ان ہی کے فرزند ہیں۔
  • ام سعید بنت عروہ بن مسعود ثقفی اور مُحیّاة بنت إمرئ القیس بن عدی کلبی شامل ہیں۔[159]

اولاد

شیخ مفید نے الارشاد میں آپ کی اولاد کی تعداد 27 ذکر کی ہے۔ ان کی تعداد محسن جو شکم می شہید ہوئے، ان کے ہمراہ 28 ہوتی ہے۔[160] یہاں آپ کی اولاد کا تذکرہ ان کی والدہ کے نام کے ساتھ کیا جا رہا ہے:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *